IQBAL DAY

ایف ٹین فور کالج میں تقریب بسلسلہ یومِ اقبال

تقریب بسلسلہ یومِ اقبال
آج 13 نومبر 2025 کو یومِ اقبال کے حوالے سے اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلبہ ایف ٹین فور میں پرنسپل کالج پروفیسر محمد راشد کی رہنمائی و قیادت میں “بزمِ ادب ایف ٹین فور کالج” نے ایک پروقار تقریب بعنوان” نوجوانوں کے نام اقبال کا پیغام” کا اہتمام کیا۔تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈائریکٹر جنرل، ادارہ فروغ قومی زبان(مقتدرہ قومی زبان)،اسلام آ باد اور ممتاز فکشن رائٹر جناب محمد حمید شاہد فرما رہے تھے، ڈاکٹر علی کمیل قزلباش اور ڈاکٹر عون ساجد تقریب کے مہمانان خصوصی تھے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا۔ازاں بعد بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ نعت پیش کیاگیا۔
پرنسپل کالج پروفیسر محمد راشد نے خیر مقدمی کلمات میں معزز مہمانوں کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے اس بات تاکید کی کہ تقریب کے معزز مہمانان کی نہایت وقیع گفتگو کو ہمہ تن گوش ہو کر سنیں اور اقبال کی فکر اور ان کےحقیقی پیغام کو خوب سمجھیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر شیر علی خان نے انجام دیے۔
معزز مہمانانِ گرامی نے کلامِ اقبال کی روشنی میں نوجوانوں کے لیے رہنما نکات و پیغامات پر پرُمغز گفتگو کی۔
پروفیسر ڈاکٹر عون ساجد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال نے اپنے مذہب سے جڑے رہتے ہوئے جدید افکار و خیالات کا خیر مقدم کیا اور ہمیں انتہا پسندی سے محفوظ رہتے ہوئے اعتدال پسندی کا راستہ دکھایا۔جناب محمد حمید شاہد نے اپنے خطاب میں نوجوانوں سے متعلق استعارات خصوصاً شاہین پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہین کو اس کی اونچی اڑان،تیز نظر، خودداری اور درویشانہ صفات کی بنا پر اقبال نے نوجوانوں کے لیے بطورِ استعارہ استعمال کیا ہے۔
ڈاکٹر علی کمیل قزلباش نے کہا کہ کلامِ اقبال میں پورا فلسفۂ حیات موجود ہے جو کہ رسولِ اسلام ( ص) کی سچی تعلیمات سے ماخوذ ہے۔انھوں نے اس صورت حال پر اظہارِ تأسف کیا کہ اقبال کے نام پر سوشل میڈیا میں ایسے اشعار بِنا کسی زحمتِ تحقیق کے پھیلائے جارہے ہیں جن کا دور دور تک کلامِ اقبال سے کوئی تعلق نہیں جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک ایران اقبال کے انقلابی فکر و کلام سے استفادہ کرتے ہوئے انقلاب برپا کر چکا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہرنے تقریب کے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمیں درحقیقت اقبال سے تجدیدِ عہد یعنی ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اقبال کے مخاطَب بوڑھے،عمر رسیدہ افراد نہیں بلکہ جوان ہی ان کے مخاطب ہیں جس کا ذکر انھوں نے اپنے کلام میں جابجا کیا ہے۔
اقبال نے اپنے زمانے کی اعلیٰ ترین تعلیمی ڈگری حاصل کی لہذا ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں رہیں۔اقبال نے قانون بھی پڑھا اور کبھی قانون شکنی نہیں کی حتی ان کے مخالفین بھی ان پر قانون شکنی کا الزام نہ لگا سکے۔ہمیں بھی قانون کا احترام کرتے ہوئے ہمیشہ نظم و ضبط کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے۔
اقبال اپنے سچے موقف پر ڈٹے رہتے تھے خواہ ان کا موقف کسی بزرگ/ بڑے کے موقف کے ناموافق ہی کیوں نہ ہو۔ہمیں بھی بلا خوف و جھجھک حق اور سچ پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ اقبال نے دانستہ طور پر ایسی کوئی بات نہیں کی جس کی وجہ سے انھیں اللہ کے حضور خجالت کا سامنا کرنا پڑے۔ہمیں ان تمام امور میں اقبال کے نقش قدم پر چلنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
تقریب کے آخر میں پرنسپل کالج جناب محمد راشد نے کالج کی طرف سے معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔

(رپورٹ: ڈاکٹر جابر حسین)

IQBAL DAY
Scroll to top